19 فروری 2026 - 17:43
مآخذ: سچ خبریں
ایران پر حملہ کرنا آگ کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے:لاوروف

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ کرنا ایک خطرناک اقدام ہے اور کسی بھی ملک کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کی خواہش نہیں ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ کرنا ایک خطرناک اقدام ہے اور کسی بھی ملک کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کی خواہش نہیں ہے۔

لاوروف نے العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پچھلے جون میں ایران پر حملے کے نتائج بھی انتہائی منفی رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوہری تنصیبات پر حملہ نہایت خطرناک ہے اور ایران کو اپنے جوہری مواد کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ غیر پھیلاؤ کے معاہدے کی پابندی کرتا آیا ہے اور تل ابیب اور واشنگٹن کے حملے خطرناک اقدام ہیں۔ لاوروف نے خبردار کیا کہ ایران پر دوبارہ حملہ کرنا "آگ کے ساتھ کھیلنے” کے مترادف ہے اور عرب ممالک بھی کسی نئی کشیدگی کے خواہاں نہیں ہیں۔

وزیر خارجہ روس نے اس بات کا یقین دلایا کہ ایران، آژانس بین‌المللی انرژی اتمی کے معائنہ کاروں کے دوبارہ کام شروع ہونے کے بعد تعاون کرے گا اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

لاوروف نے کہا کہ تمام فریق نہیں چاہتے کہ ایٹمی ہتھیار پھیلیں، لیکن ایران کو پرامن یورینیم افزودگی کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے روس اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات کی بھی وضاحت کی۔

انہوں نے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتانیہو کے رویے پر تنقید کی اور کہا کہ وہ "شدت پسند اقدامات” کی کوشش میں مصروف ہیں اور ایران کے NPT کے تحت حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لاوروف نے یورپی ممالک کی برجام سے متعلق بدعہدی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یورپی ممالک ایران کو الزام تراشی کرتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ معاہدے کی مکمل بحالی کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام یورپیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کی بجائے امریکہ سے بات کرنا ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے برجام سے نکلنے اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کے بعد خطے میں سیاسی کشیدگی اور خطرات پیدا ہوئے۔ اس حملے کے باوجود تنصیبات آژانس بین‌المللی انرژی اتمی کے نگرانی میں تھیں۔

لاوروف نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ NPT اور آژانس کے معاہدوں کی پابندی کی ہے اور کسی بھی طرح کی خلاف ورزی پر کبھی الزام نہیں لگایا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آژانس کی نگرانی ایران کی جوہری تنصیبات پر اب تک بے مثال رہی ہے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha